|
|
٭٭جنسی
تعلیم (ابتداء اور ارتقاء ) تاریخ کے جھروکے میں
٭ابتداء
جنسی تعلیم کا آغاز کب ہوا اور
کیسے ہوا؟ اس کا صحیح جواب تو کہیں سے بھی نہیں ملتا بہر
حال یہ وہ فطری جذبہ ہے جو انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس
کے اندر قدرت کی طرف سے ودیعت کر دیا گیا تھا اور اس نے اس
فطری جذبے کو زیر اثر جنسی تحریک کی ابتدا کر دی تھی۔
٭قدیم
مذہب
بر صٖغیر میں ہندو مت دنیا کا بہترین مذہب مانا جاتا ہے
اور اس مذہب کی قدیم کتب کے مطالعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ
زمانہ قدیم سے ہی اس کے پیشوا او ر حکماء جنسیت سے کافی
شغف رکھتے تھے اور ان کے اس دور کے ادب کے مطا لعہ سے واضع
طور پر ہمیں معلومات ملتی ہیں کہ ان کے رحجا نات کس حد تک
جنسی پیراؤں سے تعلق رکھتے تھے ان کی بعض اشیاء تو سائنسی
صداقتوں کو بیان کرتی ہیں اور بعض باتیں سائنسی حقیقتوں پر
پورانہیں اترتیں ۔
٭جنسی علم کی داغ
بیل
شاستر وید ( ہندوؤں کی قدیم مذہبی
کتاب) کے مطابق:
شیو بھگوان نے اس علم کی داغ بل ڈالی اس نے دس ہزار سال تک
تپسیا کی اور پاروتی کے اسرر پر انہوں نے اس علم کے اسرار
و عوا مض ظاہر کیے ۔ اگر ہندوؤں ے قدیم ماخذوں کا جائزہ
لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جنسی موضو ع پر سب سے
پہلی کتا ب کام سوترا ملتی ہے ۔ جو دات سائن کی تصنیف ہے
اور سنسکرت زبان میں لکھی ہوئی ہے جس کے بعد کے ادوار میں
مختلف زبانوں میں ترجمے ہوتے رہے اس کتاب کے مطابق سنسکرت
میں جنسی تعلیم ک داتی یا رتی کا نام دیا گیا ۔
٭قدیم کتا ب جنس
اس کے بعد ہندی زبان میں جو قدیم مفصل کتاب فن جنس پر ملتی
ہے اس کا نام رتی شاستر ہے بعد میں اسی کتاب کے استفادے سے
ہندوؤں میں اتنگارنگ رتی تہس رتی شاستر رتی مجری رس منجری
اور سامیر پر دیپ کے نام سے کتب منسصہ شہو د پر آئیں ۔جہاں
تک وات سائن کا تعقل ہے اس کے زمانے کے متعلق تاریخ کے
صفحات خاموش ہیں البتہ اس کی کتاب کا سوترا سے وکر ماجیت
بادشاہ کے درباری شاعر کالید اس نے بھر پور فائدہ اٹھایا
جو کہ ورجل و ہور یس جیسے شعرا کا عم عصر تھا ۔اس سے
اندازہ ہوتا ہے کہ وات سائن تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح
سے تعلق رکھتا تھا ۔
٭قدیم
سائنسی تجزیہ
بقول وات سائن اس نے اپنے سامنے موجودہ تما لٹریچر کا
سائنسی انداز میں تجزیہ و مطالعہ کیا اور اس ے صحیح نتائج
اخذ کئے اس کے مطابق اس موضو ع پر تفصیلی مواد شنگر ا جی
نامی استاد جو کہ جی کے منظور نظر تھے اور دریا ئے نر بدا
کے کنارے رہتے تھے اور نا شر شاستر کے با نی تھے کے شاگرد
خاص چیلاندی کی کتاب سے لیا ہے جس کے ایک ہزار ابواب تھے
اور یہ پہلا شخص تھا جس نے جنسی مسائل کو سائنسی انداز میں
پیش کیا بعد میں اس کی کتاب کا خلاصہ شویت کیتا نے لکھا جو
پندرہ ہزار ابواب پر مشتمل تھی ۔اور یہی وہ پہلا شخص ہے جس
نے ہندوؤں میں با ضابطہ شادی کا طریقہ رائج کیا جبکہ اس
معاملے میں اس سے بیشتر ہندو معاشرہ آزادانہ طرز عمل کا
حامل تھا مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ رہتے
اوراولاد پیدا کرتے اور جدا ہو جاتے تھے اور بعد میں کسی
بھی دوسے کے ساتھ جنسی تعلق پیدا کر لیتے ۔بعد ازاں پنجسار
دہلی کے باب ہریا نے شیوت کیتو کی کتاب کا مزید خلاصہ کیا
اور اس کو ڈیڑھ سو ابواب میں مرتب کر دیا کتاب کے مضامین
کو سات حصوں میں تقسیم کر دیا لیکن یہ کتاب اپنے زمانے میں
زبان کی غلطیوں کی وجہ سے پزیرارئی نہ حاصل کر سکی جنسیا
ت
کے ماہر عالم کا پنڈت نے کتاب رتی رہس تحریر کی جس کا قدیم
اردو زبان میں ترجمہ قریشی بے دری نے کیا۔
٭بڑے پایا کی
سائنٹیفک کتاب
بقول رچرڈ برٹن
وات سائن کی کتاب سوترا جنسی تعلیم کے لئے پڑی پایا
کتا ب ہے اور اس کتاب نے وا ت سائن کو لا فانی کر دیا
جب تک دنیا میں یہ کتاب باقی رہے گی تب تک مصنف کا نام
زندہ رہے گا ۔اس کتاب کا برازیل میں انگریزی ترجمہ اب
تک 186 ایڈیشن
کے شائع
ہو چکا ہے ۔ وات سائن کی کتاب پڑھنے سے نہ صرف جنسی
معلومات حاصل ہوتی ہیں بلکہ اس سے اس زمانے کے ہندوؤں
کی تہذیب و تمدن بھی معلو م ہوتی ہے۔ دو ہزار سال قبل
مسیح جب دنیا میں بر بریت کا دور دورہ تھا ہندو ستان
تمدون میں اس وقت بھی اعلیٰ مقام کا حامل تھا ۔ اس
کتاب سے جنس اور اور اس کی اہمیت کا کما حقہ استفادہ
ممکن العمل ہو جاتا ہے۔
٭کام
شاستر
جنس کے موضوع پر تقریباً ڈیڑھ ہزار سال قبل کام
شاستر جو معلومت کے لحاظ سے وات سائن کی کتاب کے بعد
دوسری اہم کتاب گردانی جاتی ہے ۔ اس کتاب کے مطابق
ہندو ستان میں پیشہ ور عورتوں کو مذہبی حیثیت حاصل تھی
اگر عرصہ دراز تک بیوی لا ول رہے تو ہندو شوہر اپنی
بیوی کو لبا س فاخرہ اور زیور سے آراستہ کر کے معہ دان
دکھشناں پوجا پاٹ کر کے اس سے اپنی اولاد کی منتی کرتی
اور شب کو دیوتا کے کمرے میں سو رہتی ۔ ایسے مندروں
میں دیوتا کا بھرم رکھنے کے لئے عموماً نو جوان اور
تندرست پجاری مندر میں رکھے جاتے ۔
٭جنسی
خواہش نفسانی کو جوش دلانا
دوپے اپنی کتاب ہندوؤں کے عادات رسوم و اخلاق میں
تحریر کرتا ہے کہ ہندو ستان میں عوام جنسی خواہش
نفسانی کو جوش میں لانے کے لئے مندروں کے درو دیوار پر
برہنہ تصاویر بنائی جاتی تھیں ۔ ہندو مذہب میں جنس کو
اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اتنی کسی اور مذب میں نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی ہندو ستان میں جنس کے
موضوع کو بڑی اہمیت دی جا تی رہی ہے اور اس پر بری
تندہی سے کام ہوتا رہا۔ ساتھ ساتھ عوام کو جنسی تعلیم
بھی مختلف پیراہوں سے دی جاتی رہی ہے .یہی وجہ ہے کہ
جب بین الاقوامی مجلس میں فحش تصاویر کو انسداد کا
ریزو لو شن 1923 میں
بمقام جنیوا پاس کیا تو اسکی تعمیل میں ہندو ستان کی
اسمبلی نے بھی ذیل کی ترمیم کے ساتھ اس قانون کو من و
عن منظور کر لیا اس قانون کے مطابق جو شخص فحش تصاویر
بیچتا ہو یا کرائے پر دیتا ہو یا منظر عا م پر رکھتا
ہو یا کسی فحش رسالے یا کتاب میں مصوری کے ذریعے نفع
کماتا ہو تو وہ سزا کا حامل ہو گا لیکن اگر کوئی کتاب
یا رسالہ تحریر یا تصویر یا نقش مذہبی رسوم کیلئے کے
لئے رکھا ہو ہو گا یا تمام بت خانوں پر کسی مذہبی
تقریب کے لئے رکھے ہوئے ہوں گے تو وہ اس دفعہ سے
مستثنیٰ ہوں گے اور ایسی کسی شے یا فرد پر قانون لاگو
نہ ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ جنس آج بھی ہندومذہب کا اٹوٹ انگ بنا
ہو اہے ۔
٭جنسی
تعلیم کیوں ضروری ہے ؟
اس حقیقت سے کوئی بھی انکا ر نہیں کر سکتا کہ ہر ملک ہر
مذہب اور ہر علاقہ اپنی اپنی الگ الگ تہذیب ، تاریخ
اور آب و ہوا کا حامل ہے اور جو بھی شخص اسکی آغوش میں
آتا ہے اس پر اپنی چھا پ لگا دیتا اس کا موازنہ یورپ
کے نو جوان طبقے کی جد اگانہ اور منفرد حیثیت اور
ایشیا ء کے ضعیف العمر طبقہ کی تہذیبی حیثیت سے کیا جا
سکتا ہے۔ علما ے کے بقول مذہبی احکا مات کی تعلیم
کیلئے مذہبی مقدس کتب کا ہونا لازمی ہے جبکہ دیگر شعیہ
ہائے زندگی کے ماہرین کے مطابق ان شعبوں کی تعلیم حاصل
کئے بغیر انسان ان شعبوں میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو
سکتا تو پھر کیا بات ہے کہ جنس خوا ہشات کی تکمیل کے
لئے کسی تعلیم کی کیوں ضرورت نہیں ہے جبکہ بنظر غا ئر
جائزہ لین تو صاف پتہ چلتا ہے کہ جنسی خواہش پر انسان
چا ہے وہ مرد ہو یا عورت فطرتاً موجود ہوتی ہے اور اس
خوا ہش کو مناسب اور موزوں طریقہ سے پورا کرنا کہ
حقیقی لطف اور لذت حاصل ہو اس کے متعلق بہت کم انسان
جانتے ہیں۔ مرد ہو یا عورت اس کی جنسی خواہش پوری
کرنے کے لئے چند ذرائع اور اسباب پیدا کرنے کی ضرورت
ہوتی ہے وہ اسباب وہ ذرائع کیاہیں ان کے جاننے کے لئے
جنسی تعلیم حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ بصورت دیگر لا
علمی کے باعث کوئی بھی شخص مرد یا عورت اپنی جنسی
خواہش کو عمدگی کے ساتھ اور کامیابی کے ساتھ پورا نہیں
کر سکتا۔
back to top
|
|
پارٹ 1>جنسیات
پارٹ 2>جنس اپنی نوعیت کے لحاظ سے
پارٹ 3>شادی
پارٹ 4>ازدواجی
تعلقات
پارٹ 5>جنسی
قوت سے عاری ہونا
پارٹ 6>جنسی امراض اور ان کا علاج
پارٹ 7>من
گھڑت جنسی نظریات
پارٹ 8>جنسی زندگی اورمسائل
14
|
 |